تشدد اور عدم تشدد کے  با رے میں اسلامی نقطہ نظر

آیت اللہ شیخ محمد حسین انصاری کے ساتھ سوالات اور جوابات

Q1 : تشدد ، عدم تشدد اور دہشت گردی : مندرجہ ذیل تصورات کے بارے

میں آپ کا کیا خیال ہے؟

 

سب سے پہلے، تشدد کیا ہے مسلم دانشوروں کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے.

  • — “دشمن یا مشکل وقت ہونے کی وجہ سے دیکھ بھال کی antonym”[i]
  • معاندانہصورتحال میں کیا جا رہا ہے[ii]
  • — “سختی سے قائم مقام مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کے لئے”[iii].
    دوم، دہشت گردی کی گئی ہے کے طور پر بیان کیا ہے :
    — “فعل کی سنجشتھا : دہشت، جس بنا ڈر ہو کا مطلب ہے”[iv]
    — “کسی کو پریشان یا انہیں ڈر بنانے کے لئے”[v]
    قرآن پاک کو مختلف آیات میں بھی لفظ ‘دہشت گردی’ کا ذکر ہے، مثال کے طور پر جب حضرت موسی کی کہانی سے متعلق جب جادوگروں سے خطاب کرتے ہوئے :
    (موسیٰ ؑ نے) فرمایا کہ (پہلے) تم ہی ڈالو۔پس جب انہوں نے (اپنی رسیوں کو اور لاٹھیوں کو)ڈالا تو لوگوں کی نظربندی کردی اور ان پر ہیبت غالب کردی اور ایک طرح کا بڑا جادُو دکھلایا۔[vi]
  • آج، دہشت گردی کو عام طور پر مومن اور انسانیت کے لئے خوف پیدا کرنے کے نام سے جانا جاتا ہے. اس تصور کو اسلام کی طرف سے حمایت حاصل نہیں ہے کیونکہ اسلام کسی بھی افعال جو تباہی اور لوگوں کا قتل کرنے کو منظور نہیں کرتا ہے.

 

 

Q2. کیا آپ کے پاس تشدد کے ایک مثبت یا منفی تفہیم ہے؟ تشدد اور مذہبی قانون کے درمیان کیا تعلق ہے؟ کیا مذہبی قانون تشدد کی حمایت کرتا ہے ؟

 

تشدد کو ایک مثبت نہیں منفی تصور کے طور پر لیتے ہیں ، کیونکہ تشدد حکمت کی تعریف کے برعکس ، جس کی تعریف ہم اپنے پہلے سوال کے جواب میں دیا  ہے. مذہبی قوانین  حکمت پر مبنی ہیں اور. اسی طرح تشدد کے خلاف ہے، خدا نے اپنی مقدس کتاب میں کہا ہے

وہی ہے جس نے (عرب کے ) ناخواندہ لوگوں میں ان ہی (کی قوم ) میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک پیغمبر بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سُناتے ہیں اور ان کو (عقائد باطلہ واخلاق ذمیمہ سے ) پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب اور دانشمندی (کی باتیں ) سٕکھلاتے ہیں اور یہ لوگ آپ کی (بعثت کے ) پہلے سے کھلی گمراہی میں تھے[vii]
خدا نے مزید کہا

بے شک الله تعالیٰ اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور ظلم کرنے سے منع فرماتے ہیں الله تعالیٰ تم کو اس کے لیے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو۔[viii]

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں مزید اس بات پر زور دیا ہے :

“خدا بے شک، دیکھ بھال ہے اور دیکھ بھال کیا جا رہا ہے سے محبت کرتی ہے، وہ بھی کیا جا رہا ہے زیادہ سے زیادہ پر تشدد کیا جا رہا ہے یا کسی بھی دوسرے ذرائع لینے، دیکھ بھال کے لئے انعام”[ix].

 

 

Q3. اسلام کا پیش نظر کیا ہے اور اسلام کیا فروغ کرتا ہے؟کیا اسلام تشدد یا عدم تشدد کو فروغ کرتا ہے ؟

اسلامی نقطہ نظر صرف عدم تشدد کو فروغ دیتا ہے جس کی تعریف ہم اپنے پہلے سوال کے جواب میں دیا  ہے

خدا نے کہا

 

” اور نیکی بدی برابر نہیں ہوتی (بلکہ ہر ایک کا اثر جدا ہے تو اب) آپ (مع اتباع) نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیا کیجیئے پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہو جاوے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔  اور یہ بات انہی لوگوں کونصیب ہوتی ہے جو بڑے مستقل (مزاج) ہیں اور یہ بات اسی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہے۔. “[x]

امام علی نے اپنے گورنر کو ایک خط میں کہا ہے:

“آپ ان افراد کو جن کی مدد میں مذہب نے محنت و مشقت کی ضرورت ہے ، کافروں اور پاپیوں کو شکست دینے میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں اور اس ریاست کے خطرناک سرحدوں کی حفاظت میں اپنی مشکلات اور اداروں میں اللہ کی مدد طلب کی ہیں.

[xi]

 

 

 

Q4.  کیا تشدد مذہب میں ایک بنیاد ہے یا ایک قاعدہ و اصول ہے؟

 

 

تمام مذاہب کی بنیاد عدم تشدد کے اصول پر مبنی ہے. خدا نے مذہب اسلام کے بارے میں واضح طور پر اپنی مقدس کتاب میں کہا ہے:
“دین میں زبردستی (کافی نفسٖہ کوئی موقع) نہیں (کیونکہ) ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے سو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور الله تعالیٰ کے ساتھ خوش عتقاد ہو (یعنی اسلام قبول کرلے) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کو کِسی طرح شکستگی نہیں (ہوسکتی) اور الله تعالیٰ خوب سننے والے ہیں خوب جاننے والے ہیں۔ “[xii]

 

 

 

 

Q5. جہاد اور تشدد کے درمیان کیا تعلق ہے؟ کیا جہاد تشدد کا مطلب ہے؟

 

. عربی میں جہاد واضح طور پر بہتر نتائج حاصل کرنے کی جدوجہد کی وضاحت ہے. یہ مسلمانوں کے لیے اس مثال کے طور پر ہیں جس میں ایمان اور معصوم لوگوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت کو فروغ دینے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے. اللہ نے کہا ہے :

” اے ایمان والو جب تم الله کی راہ میں سفر کیا کروتو ہر کام کو تحقیق کرکے کیا کرو اور ایسے شخص کو جوکہ تمھارے سامنے اطاعت ظاہر کرے دنیوی زندگی کے سامان کی خواہش میں یوں مت کہدیا کرو کہ تو مسلمان نہیں کیونکہ خدا کے پاس بہت غنیمت کے مال ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر الله تعالیٰ نے تم پر احسان کیا سو غور کرو بےشک الله تعالیٰ تمھارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔[xiii]

اللہ نے کہا ہے:

مگر جو لوگ (ایسے ہیں جو کہ) ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں کہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد ہے یا خود تمھارے پاس اس حالت سے آویں کہ ان کا دل تمھارےساتھ اور نیز اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے متقبض ہو اور اگرالله تعالیٰ چاہتاتو ان کو تم پر مسّلط کردیتا پھر وہ تم سے لڑنے لگتےپھر اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے سلامت روی رکھیں تو الله تعالیٰ نے تم کو ان پر کوئی راہ نہیں دی۔[xiv]

مزید کہا:

اور اگر وہ (کفار) صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس طرف جُھک جائیے اور الله پر بھروسہ رکھئیے بلاشبہ وہ خُوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔[xv]
جہاد کا مطلب واضح طور پر درج ذیل آیات سے واضح ہے :

  • اور (بےتکلف) تم لڑوالله کی راہ میں ان لوگوں کے ساتھ جو (نقضِ عہد کرکے) تمھارے ساتھ لڑنے لگیں اور (ازخود) حد (معاہدہ) سے مت نکلو واقعی الله تعالیٰ حد (قانونِ شرعی) سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔[xvi]

    • اور تمھارے پاس کیا عذر ہےکہ تم جہاد نہ کر و الله کی راہ میں اور کمزوروں کی خاطر سے جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں جو دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے باہر نکال جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے (غیب سے) کسی دوست کو کھڑا کیجئیے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے (غیب سے) کسی حامی کو بھیجئے ۔[xvii]

    • ” اور اگر آپ کو کِسی قوم سے خیانت (یعنی عہد شکنی) کا اندیشہ ہو تو آپ وہ عہد ان کو اس طرح واپس کردیجئیے کہ آپ اور وہ (اس اطلاع میں) برابر ہوجاویں․بلاشبہ الله تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔[xviii]

    دوسری طرف، خدا نے کہا ہے :
    • اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا․اللہ تعالیٰ انصاف کا براؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔ [xix]

  • اے ایمان والواسلام میں پورے پورے داخل ہو (فاسدخیالات میں پڑ کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔[xx]

    • اور(ان اقوام و قریٰ کی کیا تخصیص ہے) اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام روئے زمین کے لوگ سب ایمان لے آتے سو (جب یہ بات ہے تو) کیا آپ لوگوں پر زبردستی کر سکتے ہیں جس میں وہ ایمان ہی لے آویں۔[xxi]

 

 

Q6 نفسیاتی، سماجی اور رویے پر تشدد کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟

 

تشدد کا تجربہ خوف، کشیدگی، اور ذاتی یا معاشرے میں استحکام وغیرہ کی کمی کو جاتا ہے . اس کے انفرادی کردار کی تعمیر پر منفی اثرات ہیں، کیونکہ یہ فرد کی کارکردگی فرد تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر سماج پر اثر گا.

 

 

 

Q7. اسلامی دنیا میں تشدد کی کارروائیوں کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟

 

بہت سے عوامل ہیں جو تشدد شروع کرنے اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
خود ساختہ اسلامی مبلغین، شیخ اور اس طرح کے لوگوں کی وجہ سے مسئلہ پیچیدہ  ہو گیا ہے. بدقسمتی سے وہ بے خبر ہیں اور رسمی طور پر علماء کرام اور فقہی تعلیم کی کمی ہے اور اس کے نتیجے کے طور پر اپنے پیروکاروں کو گمراہ. یہ افراد زیادہ تر حمایت حاصل کر رہے ہیں اور ظالمانہ حکومتوں, سیاسی تنظیموں یا دلچسپی کی بنیاد پر میڈیا کی طرف سے استعمال کیا گیا ہے. خاص طور پر، کہ ہم روشن خیالی اور خصوصیات کی دنیا میں رہ رہے ہیں , ضروری ہے ہم اپنی خواہشات اور سوارتی مفادات کے علاوہ سب سے زیادہ علم شخص کی پیروی کرنا چاہئے.

 

 

 

Q8. کیا یہ ممکن ہے کہ آج انسانیت کی طرف سے درپیش مسائل کو تشدد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے؟

 

بالکل بھی نہیں.

 

 

 

Q9. کیا یہ ممکن ہے کہ عدم تشدد کے اصول سے انسانیت کو درپیش مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے؟

 

جی ہاں، یہ سب سے بہتر راستہ ہے. یہ منطق اور مذہب دونوں کی طرف سے منتخب کیا راستہ ہے. خدا نے کہا ہے :

اور نیکی بدی برابر نہیں ہوتی (بلکہ ہر ایک کا اثر جدا ہے تو اب) آپ (مع اتباع) نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیا کیجیئے پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہو جاوے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔ (۳۴) اور یہ بات انہی لوگوں کونصیب ہوتی ہے جو بڑے مستقل (مزاج) ہیں اور یہ بات اسی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہے۔ (۳۵)[xxii]

 

 

 

 

 

Q10. اسلام تشدد یا عدم تشدد میں سے کس راستہ کو فروغ کرتا ہے ؟

 

خدا اس نقطہ کو واضح طور پر کسی بھی دوسرے ذرائع سے پہلے اپنی مقدس کتاب میں فروغ کرتا ہے
” آپ اپنے رب کی راہ کی طرف علم کی باتوں او ر اچھی نصیحتوں کے ذریعے سے بلائیے اور( اگر بحث آن پڑے تو) ان ک ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجیئے (کہ اس میں شدت و خشونت نہ ہو آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو بھی جو اس رستے سے گم ہوا اور وہی راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ “[xxiii]

 

مزید کہا:
“اے ایمان والو بے حرمتی نہ کرو خدا تعالیٰ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینے کی۔اور نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانور کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جوکہ بیت الحرام کے قصد سے جارہے ہوں اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں۔اور جس وقت تم احرام سے باہر آجاوٴتو شکار کیاکرو۔اور ایسا نہ ہوکہ تم کو کسی قوم سے (جو اس سبب سے) بغض ہے کہ انہوں نے تم کو مسجدِحرام سے روک دیا تھا وہ تمھارے لیے اس کا باعث ہوجاوے کہ تم حد سے نکل جاوٴاور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرواور الله تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔”[xxiv]

 

مزید ہدایت کی.

” بعد اس کے خدا ہی کی رحمت کے سبب آپ ان کے ساتھ نرم رہے۔اور اگر آپ تندخو سخت طبیعت ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے سب منتشر ہوجاتے سو آپ ان کو معاف کردیجئیے اور آپ ان کے لیے استغفار کردیجئیےاور ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجئیے۔پھر جب آپ رائے پختہ کرلیں۔تو خدا تعالیٰ پر اعتماد کیجئیے بےشک الله تعالیٰ ایسے اعتماد کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔ “[xxv]
 

” پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ (برغبت) نصیحت قبول کر لے یا (عذاب الہیٰ سے) ڈر جائے۔” [xxvi]

 

 

 

. Q11 اظہار کے پرامن ذرائع کو فروغ دینے کے طور پر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امن ایک مثالی تصور ہے کہ عملی طور پر نہیں کیا جا سکتا ہے کیا مذہب اس کی حمایت کرتا ہے ؟

 

یہ اسلام کی صحیح تعلیم اور افہام و تفہیم کے ذریعے کیا جاتا ہے جیسا کہ حضرت محمد (ص) کی طرف سے نازل کیا گیا ہے. یہ ایک پرامن اور صالح طریقے سے ترتیب میں ایک دنیا کے بارے میں عمارت ہمیشہ عملی طور پر ایک پرامن راستہ تلاش پر توجہ مرکوز ہے.

یہ ثابت ہے کہ امام علی نے لکھا ہے:

[xxvii]
 

 

 

Q12. تمام پر تشدد اور عدم تشدد پر مبنی اسلامی تحریکوں ,اسلام کا استعمال کرتے ہوئے ان کی کارروائی کا جواز پیش کرتے ہیں. دونوں میں سے کون صحیح ہے. خاص طور پر اگر ہم جانتے ہیں کہ دونوں راستے ایک دوسرے کے متضاد ہو سکتے ہیں ؟

 

.سب کا دعوی ہے کہ ان کی راہ اسلام کی طرف سے صحیح ہے جبکہ ان میں سے کوئی بھی صحیح  نہیں ہے . اس طرح ہے کہ اسلام کو سمجھا نہیں جاتا ہے. یہ حکمت ہے    کہ لوگوں کو ان کے مقاصد تک پہنچنے کے لئے مدد کرئے گی ، کیونکہ یہ سب سے محفوظ اور قریب ترین راستا ہے. خدا نے ان کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں اور انسانیت نے کہا ہے :

 

سوتم یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف رکھو الله کی دی ہوئی قابلیت کا اتباع کرو جس پر الله تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے الله تعالیٰ کی اس پیدا کی ہوئی چیز کو جس پر اس نے تمام آدمیوں کو پیدا کیا ہے بدلنا نہ چاہیئے پس سیدھا دین یہی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (۳۰) تم خدا کی طرف رجوع ہو کر فطرت الہٰیہ کا اتباع کرو اور اس سے ڈرو اور نماز کی پابندی کرو اور شرک کرنے والوں میں سے مت رہو۔ (۳۱) جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور بہت سے گروہ ہو گئے ہر گروہ اپنے اس طریقہ پر نازاں ہے جو ان کے پاس ہے[xxviii]

 

 

لوگوں کو ان کے مقاصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ راستےپر ر ہے.

خدا نےکہا ہے :

 

اور مضبُوط پکڑے رہو الله تعالیٰ کے سلسلہ کو اس طور پر کہ (باہم سب) متفق (بھی ) رہو اور (باہم) نا اتفاقی مت کرو[xxix]

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک روایت ہے کہ جس پر تمام  مسلمانوں کا اتفا ق ہے , کہا ہے کہ :

“اے لوگوں میں تمہارے درمیان چیزیں چھوڑے جا رہاہو,  جو گمراہی سے بچانے گی ، اللہ کی کتاب اور میرے خاندان کو!”.[xxx]

 

یہ نیک اور پرامن ہونے کے طور پر اس سمت کو خدا اور اس کے نبی مقرر کیا ہے. مزید برآں ، یہ اللہ کے احکام کا علم تجربہ کار علماء کرام کے حوالے سے حاصل ہوتا ہے ، بدقسمتی سے دنیاوی خواہشات کو حاصل کرنے کے لئے تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد اور سیاسی تحریکوں نےمذہب کا استعمال کیا ہے.
میں اس موقع پر میرے بھائی اور بہنوں کے لئے مشورہ کی پیشکش کرنے کے لئے خدا تعالی کی عظیم آیات پیش ہیں :

کیا یہ لوگ صرف اس امرکے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آویں یا ان کے پاس آپ کا رب آوے یا آپ کے رب کی کوئی (نشانی) آوے جس روز آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آپہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آوے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو آپ فرمادیجئیے کہ تم منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں۔ (۱۵۸) بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جُدا جُدا کردیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ الله کے حوالہ ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوٴا جتلاویں گے۔[xxxi]

 

اس جواب کو امام علی کے قول پر ختم کر تے ہیں جو انہوں نے مالک اشتر کو لکھا ہے

[xxxii]

 

 

 

 

حوالہ جات

References:

[i] Ibn Mandhor Lisanul Arab, Unf Part.

[ii] Turaihi, Majma Albahrain, Unf Part.

[iii] AlAskari, Kitabul Furooq, P241.

[iv] Ibn Mandhor Lisanul Arab, Vol. 5, P337.

[v] AlZobaidi, Tajul Aroos, Vol. 1, P28.

[vi] Quran, Chapter 7: Aaraf, Verse 116.

[vii] Quran, Chapter 62: Jumaa, Verse 2.

[viii] Quran, Chapter 16: Nahl, Verse 90.

[ix] Muslim, Saheeh, Vol. 16, P362.

[x] Quran, Chapter 41: Fusellat, Verse 34-35.

[xi] Imam Ali, Nahjul Balaghah, Letters Chapter, No. 46.

[xii] Quran, Chapter 2: Baqarah, Verse 256.

[xiii] Quran, Chapter 4: Nisa, Verse 94.

[xiv] Quran, Chapter 4: Nisa, Verse 90.

[xv] Quran, Chapter 8: Anfal, Verse 61.

[xvi] Quran, Chapter 2: Baqarah, Verse 190.

[xvii] Quran, Chapter 4: Nisa, Verse 75.

[xviii] Quran, Chapter 8: Anfal, Verse 58.

[xix] Quran, Chapter 60: Mumtahanah, Verse 8.

[xx] Quran, Chapter 2: Baqarah, Verse 208.

[xxi] Quran, Chapter 10: Yunis, Verse 99.

[xxii] Quran, Chapter 41: Fusellat, Verse 34-35.

[xxiii] Quran, Chapter 16: Nahl, Verse 125.

[xxiv] Quran, Chapter 5: Maadah, Verse 2.

[xxv] Quran, Chapter 3: Aal Umran, Verse 159.

[xxvi] Quran, Chapter 20: Taha, Verse 44.

[xxvii] Imam Ali, Nahjul Balaghah, Letters Chapter, No. 53.

[xxviii] Quran, Chapter 30: Rome, Verse 30-32.

[xxix] Quran, Chapter 3: A’l Imran, Verse 103.

[xxx] Termuthi, Saheeh, Vol. 13, P199.

[xxxi] Quran, Chapter 6: Anaam, Verse 158-159.

[xxxii] Imam Ali, Nahul Balaghah, Letters Chapter, No. 53.